poem

غفلت چھوڑو 

اُ ٹھو بیٹا غفلت چھوڑو 

غفلت چھوڑو کچھ کر گزرو

 مایوسی کی دُھند کو چھا نٹو 

علم کی تم تلوار سے کا ٹو 

کوئی نہیں ہے جھوٹا سچا 

کوئی نہیں ہےکڑوا میٹھا 

دولت سے ہرچیز نہ تولو 

کوئی بڑا تم بول نہ بولو

 محنت کرکے آگے آؤ 

علم سے اپنے پاؤں جما ؤ 

کرنے پر جب کام تم آؤ

 ٹوٹی کشتی پار لگاؤ

 اُٹھو بیٹا غفلت چھوڑو

 غفلت چھوڑو کچھ کر گزرو



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

پیاسا کوا (Piyasa Kawwa)

ظاہر بات چپ نہیں سکتی تمام دنیا پر روشن ہو جاتی ہے (Zahir Baat Chup Nhi Sakti Tamam Duniya Per Roshan Hojati Hai)

Informative Post 1